ہاں پہلے غالبؔ تھی میرؔ ہو گئی ہوں میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاہاں پہلے غالبؔ تھی ، میرؔ ہو گئی ہوں میں
کتابِ عشق میں تحریر ہو گئی ہوں میں
اے میری ذات کا نقشہ اتارنے والے
تمہارے شہر کی تشہیر ہو گئی ہوں میں
تمہارے عشق کا اتنا تو رنگ ہے مجھ پر
تمہارے پیار میں پھر ہیر ہو گئی ہوں میں
بکھرتی سانس کا دیکھو کمال ہے کتنا
ترے خیال کی زنجیر ہو گئی ہوں میں
یہ سلسلہ کیا ہے سوچ آج تو وشمہ
کسی کی یاد میں دلگیر ہو گئی ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






