ہجرتوں کا سلسلہ ہے کس لئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاہجرتوں کا سلسلہ ہے کس لئے
نیند آنکھوں سے جدا ہے کس لئے
آؤ مل کر بانٹ لیں اپنی خوشی
ایک ہیں تو فاصلہ ہے کس لئے
ہاتھ میرے ہاتھ دو اور چل بھی دو
یہ وفا کا راستہ ہے کس لئے
مت اٹھاؤ انگلیاں کردار پر
زندگی کا آئینہ ہے کس لئے
زخم کی شاخیں ہری ہیں جسم پر
درد پھر بھی بے صدا ہے کس لئے
قید ہوں کب سے انا کے جال میں
زندگی بجھتا دیا ہے کس لئے
گر اسے وشمہ مجھے ملنا نہیں
پھر دریچے میں ضیا ہے کس لئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






