ہجر کا تارا ڈوب چلا ہے، ڈھلنے لگی ہے رات وصی
Poet: Wasi Shah By: Shazia Hafeez, Attockہجر کا تارا ڈوب چلا ہے، ڈھلنے لگی ہے رات وصی
قطرہ قطرہ برس رہی ہے اشکوں کی برسات وصی
تیرے بعد یہ دنیا والے مجھ کو پاگل کر دیں گے
خوشبو کے دیس میں مجھ کو لے چل اپنے ساتھ وصی
یونہی چُپ کی مُہر لگا کر، کب تک گُم سم بیٹھو گے
خاموشی سے دَم گُھٹتا ہے، چھیڑو کوئی بات وصی
آج تو اُس کا چہرہ کچھ بدلا بدلا لگتا ہے
موسم بدلا، دنیا بدلی، بدل گئے حالات وصی
میرے گھر خوشبو کا یہ رقص اُسی کے دم سے ہے
اُس کے ساتھ چلی جائے گی پھولوں کی برسات وصی
چھوڑ وصی اب اُس کی یادیں تُجھ کو پاگل کر دیں گی
تُو قطرہ ہے، وہ دریا ہے، دیکھ اپنی اوقات وصی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






