ہجومِ غیر تیرے در پر مجھے اچھا نہیں لگتا
Poet: Abdul Waheed Sajid By: Abdul Waheed Ghori, DUNYAPUR, DISTRICT LODHRANہجومِ غیر تیرے در پر مجھے اچھا نہیں لگتا
بدلتا یہ تیرا تیور مجھے اچھا نہیں لگتا
بچھڑ کر تجھ سے بارہا ہوا ایسا بھی ہے جاناں
کبھی کبھی خود اپنا گھر مجھے اچھا نہیں لگتا
میں تیرا ہو نہیں سکتا مجھے اِتنا نہ سوچا کر
وہ مجھ سے کہہ تو دیتا ہے مگر اچھا نہیں لگتا
مسافر ہوں محبت کا مسافت طے بھی کر لوں گا
مگر تو ساتھ نہ ہو تو سفر اچھا نہیں لگتا
میں جس کو یاد کرتا ہوں زمانہ بھول کے یارو
وہ میری یاد سے ہو بے خبر اچھا نہیں لگتا
بھلے مجھ کو نہ اپناؤ فقط اِک بار تو سوچو
بِنا پھل کے کوئی بھی ہو شجر اچھا نہیں لگتا
وُہی رستے جہاں پر ساتھ چلتے تھے کبھی مِل کے
رقیبوں کا وہاں پر ہو گُزر اچھا نہیں لگتا
میری آنکھوں کو نم کر کے وہ مجھ سے کہہ بھی دیتا ہے
تیرے دِل پہ کروں کوئی جبر اچھا نہیں لگتا
سنا ہے پیار میں تھوڑا صبر سے کام چلتا ہے
مگر میں کیا کروں مجھ کو صبر اچھا نہیں لگتا
تمہارا نام لیتا ہے تجھی سے پیار کرتا ہے
ساجد کو زہر ہی دیدے اگر اچھا نہیں لگتا
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






