کچھ لمحے فرصتوں کے میرے ساتھ تم گزارو
Poet: Abdul Waheed Sajid By: Abdul Waheed Ghori, DUNYAPUR, DISTRICT LODHRANکچھ لمحے فرصتوں کے میرے ساتھ تم گزارو
مجھے جان کہنے والو یوں جان سے نہ مارو
اتنی سی بات کہہ کے مجھ سے بچھڑ گیا وہ
میں بھی تمہیں بلاؤں تم بھی مجھے پکارو
ایسا نہ ہو کہ تجھ کو سینے سے پھر لگاؤں
میرا دل دکھاؤ لیکن یہ زلف نہ سنوارو
مجھ کو اجاڑ کر بھی میرا حال پوچھتے ہو
انداز بھا گیا ہے مجھ کو تمہارا یارو
اس کے بنا چین سے سویا نہیں ہوں میں بھی
دیکھو گواہ رہنا تم اے فلک کے تاروں
میں بھولنے لگا ہوں جھوٹی محبتوں کو
پھر یاد اب نہ آنا مجھے جان سے بھی پیارو
گر ضد پہ آگئے ہو تو یہ فیصلہ ہے اپنا
تم جیت جاؤ لیکن مجھ سے کبھی نہ ہارو
ممکن بھی یہ کہاں ہے وہ مجھ کو چھو لے آکر
تم بھی کبھی ملے ہو سمندر کے دو کناروں
میں بھی تو ہوں شکستہ بالکل تمہارے جیسا
مجھے غور سے تو دیکھو اجڑے ہوئے مزاروں
میت پہ میری آ کے غیروں سے کہا اس نے
ساجد تو مر گیا ہے اسے لحد میں اتارو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






