ہجوم غم جاوداں ہو رہا ہے

Poet: عالی گوپالوری By: مصدق رفیق, Karachi

ہجوم غم جاوداں ہو رہا ہے
مرے صبر کا امتحاں ہو رہا ہے

فسانہ ترے عشق کا کہہ رہا ہوں
زمانہ مرا ہم زباں ہو رہا ہے

بس اک میرے ہی آشیاں کی خلش سے
جسے دیکھیے باغباں ہو رہا ہے

نہ ڈوبے کہیں آرزوؤں کی کشتی
مرا بحر غم پھر رواں ہو رہا ہے

ذرا باغباں ہو گیا ہے جو غافل
ہر اک پھول اک آشیاں ہو رہا ہے

تری راہ میں کارواں زندگی کا
غبار پس کارواں ہو رہا ہے

نشیمن کے تنکوں سے پھوٹے ہیں غنچے
مرا آشیاں گلستاں ہو رہا ہے
 

Rate it:
Views: 191
25 Mar, 2025
More Sad Poetry