کبھی داستان ہستی یہ تمام تک نہ پہنچے

Poet: عالی گوپالوری By: مصدق رفیق, Karachi

کبھی داستان ہستی یہ تمام تک نہ پہنچے
نہ فنا سے آشنا ہو تو دوام تک نہ پہنچے

تو پلا مجھے نظر سے کہ یہ جام تک نہ پہنچے
کہیں بادۂ محبت سر عام تک نہ پہنچے

تو ستم کی قینچیوں سے پر آرزو جو کاٹے
کوئی طائر تخیل ترے بام تک نہ پہنچے

مرا وقت واپسی ہے تو نہ آ مرے سرہانے
کہ جفا کی کوئی تہمت ترے نام تک نہ پہنچے

جو صنم کدے میں جلوہ ترا دیکھ لے برہمن
ترا نام چھوڑ کر وہ کبھی رام تک نہ پہنچے

تری ایک یاد رنگیں مری زیست کا سہارا
جو وہ صبح کو نہ آئے تو یہ شام تک نہ پہنچے

مرا آخری تھا سجدہ کہ نفس نے ساتھ چھوڑا
ترے در پہ سر جھکایا تو قیام تک نہ پہنچے

مرا کاروان ہستی مرے صبر ہی نے لوٹا
کبھی آہ بھی جو کھینچی ترے نام تک نہ پہونچے

غم عشق گر نہ ہو تو نہ ہو دل اسیر گیسو
کہ نہ ہو جو دانہ طائر کبھی دام تک نہ پہنچے

میں جھکا ہوں بندگی کو تو وہ رخ پھرا رہے ہیں
کہ سلام رفتہ رفتہ یہ پیام تک نہ پہنچے

جو نقاب رخ الٹ کر کبھی سامنے بھی آیا
جو چڑھائے تیوروں کو کہ سلام تک نہ پہنچے

جو پلا دے مسکرا کر تو جھکی جھکی نظر سے
کوئی ہاتھ میکدے میں کبھی جام تک نہ پہنچے
 

Rate it:
Views: 152
25 Mar, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL