ہر ایک شخص میں مجھ کو وہ دیکھتا کیوں ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiہر ایک شخص میں مجھ کو وہ دیکھتا کیوں ہے
مجھے گنوا کے وہ مجھ سا ہی ڈھونڈتا کیوں ہے
اسے جو پیار ہے مجھ سے تو پھر ملے مجھ کو
مجھے وہ ہجر کی زد میں اجاڑتا کیوں ہے
وہ صرف مجھ کو دکھاۓ یہ حسن و ناز و ادا
ہر ایک شخص کو الجھن میں ڈالتا کیوں ہے
وہ چاہے جس سے کرے پیار پر کرے تو سہی
وہ روز پیار کے خیمے اکھاڑتا کیوں ہے
سوال کر کے مجھے اس نے لاجواب کیا
کہ رات دن تو مرے پیچھے بھاگتا کیوں ہے
کبھی تو اپنے بھی اندر وہ خامیاں ڈھونڈے
زمانہ میرے گریباں میں جھانکتا کیوں ہے
جو صرف میرا ہے باقرؔ وہ صرف میرا رہے
وہ سارے شہر میں الفت کو بانٹتا کیوں ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






