ہر ایک لمحہ ترا انتظار کرتا ہوں
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistanہر ایک لمحہ ترا انتظار کرتا ہوں
ہے اعتراف کہ میں تجھ سے پیار کرتا ہوں
تجھے ہی سوچتا ہوں رات کے سناٹے میں
یوں خود کو تیرے لیے بے قرار کرتا ہوں
تری گلی سے گزرتا ہوں کیسے شوق لیے
نجانے کیوں یہ عمل بار بار کرتا ہوں
یہ ڈر ہے اس کو مری مفلسی نہ کھا جائے
میں تیرے پیار پہ گو اعتبار کرتا ہوں
الجھتا رہتا ہوں پھر ریت کے طوفانوں سے
جو مشکلوں سے سمندر کو پار کرتا ہوں
کیے کرائے پہ ہوتی نہیں نظر میری
میں اپنے ہاتھوں سے اپنا شکار کرتاہوں
مجھے سمجھنے کو کافی ہے شاعری میری
کہ خود کو شعروں میں ہی آشکار کرتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






