ہر ایک چیز میں جیسے نشان ہوتی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاہر ایک چیز میں جیسے نشان ہوتی ہے
ہر ایک پھول پہ مجھ کو گمان ہوتی ہے
کروں تو کیسے کروں امتحاں کی تیاری
کتاب ہاتھ میں ہے نہ ہی دھیان ہوتی ہے
تری جھلک کے لیے کھڑکیوں کو تکتی ہوں
ملی ہے جب سے خبر یہ مکان ہوتی ہے
ترے سوا مری نظروں میں کوئی جچتا نہیں
جو د یار دل میں بسا ہے وہ جان ہوتی ہے
ہے میرا دل جو محبت میں اس قدر گھائل
قصور اس میں تو چاہے نہ مان ہوتی ہے
میں کچھ بھی سوچوں مگر تجھ کو بھولتی ہی نہیں
کہ میری سوچوں کا سارا جہان ہوتی ہے
مرے خلوص و وفا کو پرکھ لیا تو نے
صلہ بھی دیتا ہے اب امتحان ہوتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






