ہر جانب اک ویرانی ہے
Poet: Sadaf Ghori By: Sadaf Ghori, Quettaتو ساتھ نہ ہو تو دنیا کی
ہر چیز پرائی لگتی ہے
مجھ کو تو میری آنکھیں بھی
بے نور جزیرہ لگتی ہیں
تحریر اثر کھو دیتی ہے
تخلیق ادھوری لگتی ہے
اس دل کی ویراں بستی میں
ہاں ، ایک زمانہ بیت گیا
آیا نہ کوئی ٹھہرا نہ کوئی
نہ کسی ہنسی کا ساز بجا
سویا نہ کوئی رویا نہ کوئی
بس ایک تمہارے جانے سے
ساری دنیا انجانی ہے
ہر جانب اک ویرانی ہے
محبت آنکھ میں گُم ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






