ہر شام روز دل کو بہلا لیتا ہوں
Poet: M,masood By: M,masood, Nottinghamہر شام روز دل کو بہلا لیتا ہوں
تنہائی میں خود کو ہی دوست بنا لیتا ہوں
یاد اُن کو کر کے مسکرا لیتا ہوں
گزرے لمحوں کو پھر قریب بلا لیتا ہوں
شام جب آتی ہے تو پوچھ جاتی ہے
کیا آج بھی آنسو بہاو گے میں ہنس دیتا ہوں
ہر شام روز دل کو بہلا لیتا ہوں
تنہائی میں خود کو ہی دوست بنا لیتا ہوں
زندگی کو جینے والا آج کیوں چُپ بیٹھا ہے
جب ماں یہ پوُچھتی ہے تو سر جُھکا لیتا ہوں
پُوچھے اگر کوئ کہ میری یہ حالت کا زمہ دار کون
تو آینے میں دیکھ خود پر اُنگلی اُٹھا لیتا ہوں
ہر شام روز دل کو بہلا لیتا ہوں
تنہائی میں خود کو ہی دوست بنا لیتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






