ہر شجر اب اُداس ہے (3)
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaاِس دور کے بشر سبھی
ہیں خود غرض ہیں مطلبی
دیتے ہیں پیار کی صلاح
جھوٹے سبھی ، جھوٹے سبھی
کس پہ کروں کس پہ کروں
سوچو میں اعتبار ہے
ہر شجر اب اُداس ہے
ہر پھول سوگوار ہے
اے جانِ بہار اب لوٹ آ
بے صبر میرا انتظار ہے
تجھے ہے خدا کا واسطہ
اب لوٹ آ میرے نہال
کھا ترس میرے حال پہ
مجھے تو بچا میرے نہال
میرا دل ، جگر میرا روم روم
ترے عشق کا بیمار ہے
ہر شجر اب اُداس ہے
ہر پھول سوگوار ہے
اے جانِ بہار اب لوٹ آ
بے صبر میرا انتظار ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






