ہر طرف محبت ہے ، تری یاد کا عالم ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااے پیار کے دیوانے تری بات پہ سر خم ہے
ہر طرف محبت ہے ، تری یاد کا عالم ہے
مقبول زمانے میں ان کے ہی تو نعرے ہیں
" اندازِ بیاں جن کا شعلہ ہے نہ شبنم ہے"
جس پیڑ پہ چڑیوں کا اک رین بسیرا تھا
اُس پیڑ پہ وقتِ سحر کیا پھوٹتی سرگم ہے
اب بھولنا چاہوں تو مرے دل میں برستا ہے
ہر حال میں رہتا ہے جیسا بھی وہ موسم ہے
اس شہرِ تمنا میں دل خان ہوا میرا
جو جاں کو سکوں بخشے ایسا کوئی مرہم ہے
جو درد کی صورت ہی مرے دل میں اترتا ہے
اس جان کے در پہ وہ فرشتہ ہے یا آدم ہے
یہ تُو ہی بتا وشمہ کیسے میں مناؤں گی
جو کل بھی تھا نالاں یہاں ،جو آج بھی برہم ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






