ہر لمحے تیرے آنے کے آثار میں رہنا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaہر لمحے تیرے آنے کے آثار میں رہنا
ہم نے یوں بھی کبھی کبھی خیال میں رہنا
بادل نے کیا خوب برسات کر دی آج
بارش دیکھتے دیکھتے تیر ے انتطار میں رہنا
پھولوں سے خشبوں کہاں ُجدا ہوتی ہے
صبح و شام صرف تیرے خمار میں رہنا
کیا کہاں ابھی آ رہے ہو ۔۔۔ یہ سن کر
تیری راہ تکتے تکتے بازار میں رہنا
نیندیں تو ُرخصت ہو گئی تھی جب تم سے ملے تھے
پھر ُاس کے بعد ہم نے آرزو یار میں رہنا
چاند تاروں سے کرنے کو باتیں تو بہت تھی
لیکن ہر رات نئی امنگوں کے گلزار میں رہنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






