ہر محٍفل میں ۔۔۔۔۔۔
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMہر محفل میں اپنی شاعری سنائے جاتا ہوں
ایسے میں ہر کسی کو ستائے جاتا ہوں
آستیں میں کوئی سانپ چھپا بیٹھا نہ ہو
ہر پل پیار کی بین بجائے جاتا ہوں
ان دنوں بہت لوگ مجھ سے خفا ہیں
ایسے لوگوں کے ادھار چکائے جاتا ہوں
دنیا بھر کے غم اپنی جھولی میں ڈال کر
اب غم مجھے اور میں انہیں کھائے جاتا ہوں
وہ مجھ سے بات نہیں کرتا تو کیا
میں اس کی باتوں میں ٹانگ اڑائے جاتا ہوں
اصغرکی آواز سنتے ہی وہ فون پٹخ دیتا ہے
ہمت نہ ہارتے ہوئے نمبر ملائے جاتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






