ہر پل گاتے رہنا اچھا
Poet: N A D E E M M U R A D By: N A D E E M M U R A D, UMTATA REPUBLIC OF SOUTHAFRICAہر پل گاتے رہنا اچھا
ہر پل ہنستے رہنا اچھا
کب ہوتے ہیں یہ دکھ اچھے
ہنستے سہتے رہنا اچھا
میری دھڑکن کے سُر سارے
تم بھی سنتے رہنا اچھا
ہو جاؤ ناراض کبھی تم
باتیں کرتے رہنا اچھا
ہجر کا قصہ چھیڑوں جب بھی
تم بھی ہنستے رہنا اچھا
موتی کی گر آس نہیں ہے
سیپی چنتے رہنا اچھا
عزم ہے گر کچھ کر دینے کا
سپنے بُنتے رہنا اچھا
پتیوں کو گل کیسے کہیئے
تھا مل جل کے رہنا اچھا
بے خوفی سے پھول کے جیسے
اک دن کھل کے رہنا اچھا
یادوں کی آغوش میں چھپ کر
نظمیں کہتے رہنا اچھا
اچھا برا اللہ ہی جانے
سب کو کہتے رہنا اچھا
چڑھتے سورج کو سجدے سے
دن بھر سوتے رہنا اچھا
سارا دن سوتے رہنے سے
دن بھر روتے رہنا اچھا
سارا دن روتے رہنے سے
کچھ کچھ کرتے رہنا اچھا
زخم ندیم اتنے اس دل پر
نمے گاتے رہنا اچھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






