ہزاروں دیپ ہیں روشن شباہت یاد آتی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاہزاروں دیپ ہیں روشن شباہت یاد آتی ہے
ہوئے ہیں مبتلائے غم عبادت یا د آتی ہے
یہ کس امید پر کاٹی ہمیں معلوم ہی کیا تھا
شب غم کے مقدر میں رفاقت یاد آتی ہے
کہاں جائیں ، کدھر ڈھونڈیں تجھے اے دوست دنیا میں
نجانے آج کس ملک کی ہجرت یاد آتی ہے
خزاں کا دور ہے ہر سو ، ہر اک جانب ہے ویرانی
گئے کیا تم بہاروں کی صداقت یا د آتی ہے
محّبت بدگمانی کو ہمیشہ ساتھ رکھتی ہے
مداوا ہو بھی جائے تو شکایت یاد آتی ہے
سمٹ کر رہ گئی ہے زندگی ، اب جس طرف دیکھیں
تری یادوں کا پہرا ؎ ،ہے ندامت یا د آتی ہے
میں چاہے جتنی بھو لوں وہ زمانے یاد آتے ہیں
خمار آلود ہ ماضی کی حاجت یاد آتی ہے
وشمہ یاد ماضی بھی مداوا درد حاضر کا
برے حالوں میں اکثر دن محبت یاد آتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






