ہماری ذات میں اتنی تو پارسائی نہ تھی
Poet: میم الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiکوئی تو بات تھی تجھ کو کبھی سنائی نہ تھی
یہ ایک بات ترے دل میں کیوں سمائی نہ تھی
شریک جرم تھے میرے وہ سب رہا بھی ہوئے
مرے نصیب میں لیکن کوئی رہائی نہ تھی
ستارے توڑ کے لانے کی جانے ضد کیوں تھی
ہمارے پاس تو ایسی کوئی خدائی نہ تھی
ملا تھا جب بھی وہ الجھا ہوا سا رہتا تھا
کوئی تو بات تھی اب تک ہمیں بتائی نہ تھی
وہی تو شہر میں تھا ایک میرے مطلب کا
ملال تو یہ تھا اس تک مری رسائی نہ تھی
ہمارے پہلو میں کیوں آج آکے بیٹھا تھا
ہماری ذات میں اتنی تو پارسائی نہ تھی
کیوں ایک مصرعہ ترا ارشیؔ جا بجا پہنچا
غزل تو لکھی تھی تو نے مگر سنائی نہ تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






