ہمارے بعد جب سب سے ملو گے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKہمارے بعد جب سب سے ملو گے
کہو تو کِس طرح با تیں کرو گے
بہت مشکل سے پھر تو جی سکو گے
اگر تمُ ساتھ میرا چھوڑ دو گے
کبھی ساون کی جب برسیں پھواریں
کہیں بیٹھے ہوۓ آہیں بھرو گے
کِسی محفل میں میرا نام سُن کر
یہ کیا کم ہے کہ اکثر چونک اٹھو گے
کِسی کا بن کے رہنا تو الگ ہے
خود اپنے بھی نہ ہر گِز بن سکو گے
پرانی بات کوئی یاد کر کے
اکیلے میں کبھی تم رو پڑو گے
گماں ہوگا مِرا ہی جب کبھی بھی
گلی میں پاؤں کی آہٹ سنو گے
مِری نادانیوں کو یاد کر کے
کبھی بے ساختہ تم ہنس پڑو گے
کوئی کاندھا نہ جب رونے کو ہو گا
در و دیوار سے لپٹا کرو گے
مرا سایہ ہمیشہ ساتھ ہو گا
جہاں جس جس جگہ بھی تم چلو گے
ہمارا کیا چلے جائیں گے عذراؔ
مگر یہ درد تم کیسے سہو گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







