ہمیشه دور ہی رہتا ہوں میں
Poet: محمد یوسف راہی By: محمد یوسف راهی, Karachiجہاں باتیں ہوں صرف نفرت کی
نہ ہو عزت بھی کوئی عزت کی
جہاں سودا ہوتا ہو بس ایماں کا
جہاں باتیں ہوتی ہوں قیمت کی
وہاں سےدور ہی رہتا ہوں میں
ہمیشہ دور ہی رہتا ہوں میں
جہاں دینا ہوبس دھوکا سب کو
اور کرنا ہو پہر پریشان سب کو
ناجائز کو جائز ثابت کر کے یاروں
یوں ہی کرنا ہو حیراں سب کو
وہاں سے دور ہی رہتا ہوں میں
ہمیشہ دور ہی رہتا ہوں میں
جہاں سچ کی نہ ہو کوئی وقعت
بس جھوٹ کی ہو یاروں عزت
صحیح غلط کی نہ ہوکوئی تمیز
غلط صحیح ہواور صحیح غلط
وہاں سے دور ہی رہتا ہوں میں
ہمیشہ دور ہی رہتا ہوں میں
یاروں مجھ سے ہوتی نہیں ہے
دھوکا دہی اور یہ غلط بیانی
جہاں ہو مکروفریب کی سازش
ظلم وستم ہو جہاں پر حاوی
وہاں سے دورہی رہتا ہوں میں
ہمیشہ دور ہی رہتا ہوں میں
جہاں کرپشن ہوتی ہو یاروں
جہاں پرلٹیرے لوٹ رہے ہوں
ان آنکھوں سے انجام اپنوں کا
دیکھ کر انجان بن رہے ہوں
وہاں سے دور ہی رہتا ہوں میں
ہمیشہ دور ہی رہتا ہوں میں
خدا سے دعا ہے اتنی سی رہی
چلائے مجھے وہ رہ پر سچ کی
دور رکھے مجھے ہر برائی سے
جہاں بھی ظالم اور لٹیرے ہوں
وہاں سے دور ہی رہتا ہوں میں
ہمیشہ دور ہی رہتا ہوں میں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






