ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہر تدبیر کرنے میں
Poet: امید خواجہ By: امید خواجہ , 1e Exloermondہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہر تدبیر کرنے میں
وہ جیسے عدلیہ مجرم کو دارو گیر کرنے میں
ہوئی ہے جا بجا پیوند کاری نظمِ گلشن میں
لگے گی زندگی آئین کی تطہیر کرنے میں
یونہی پل بھر میں اُس کردار کے سارے بھرم ٹُوٹے
بتائی عمر جس کردار کی تعمیر کرنے میں
وہ آج آئیں گے میرے گھر مگر ڈرتا بھی ہوں واللہ
بڑے مشہور ہیں وہ برملا تحقیر کرنے میں
وہ تیرے عارض و گیسو وہ تیری چشمِ زیبائی
زمانہ چاہئے یہ داستاں تحریر کرنے میں
نہیں ہوں صُلح جُو مانا طبیعت بھی ہے سیلانی
تجھے کیا مِل گیا ظالم مری تشہیر کرنے میں
چلو آؤ چلیں امید اس کے گھر پہ دستک دیں
خسارہ ہے وگرنہ بے وجہ تاخیر کرنے میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






