ہمیشہ کے لیے ہو جاؤ میری زیست میں شامل
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanبنو تم ہمسفر میرے تمھیں ہو گا بہت مشکل
تمھارا اور ہی رستہ ، تمھاری اور ہی منزل
میں طوفانوں میں اپنے حوصلوں کو آزماتا ہوں
تمھیں درکار ہیں لہروں سے بچتے پر سکوں ساحل
تمھیں مجھ سے نہیں لعل و جواہر سے محبت ہے
مرے نزدیک دولت پیار کرنے کے نہیں قابل
یہ ساری چار روزہ زندگی اور حرص ہے کتنی
چلے جانا ہے سب کچھ چھوڑ کے پھر اس سے کیا حاصل
یونہی کل رات سڑکوں پہ بتائیں علم کی باتیں
جنھیں سن کے بڑی ہی زور سے ہنستے رہے جاہل
مری بھی ذات میں کچھ خامیاں ہیں مانتا ہوں میں
بھلا کب یہ کہا تم سے کہ میں انسان ہوں کامل
اداسی میری آنکھوں کی گواہی کیا نہیں دیتی ؟
کمی محسوس کرتا ہے تمھاری کس قدر یہ دل
ہنسی میں غم چھپایا جا نہیں سکتا مری محبوب !
ستارے آنسوؤں کے کس لیے پلکوں پہ ہیں جھلمل
فقط دو چار دن کی میں محبت کا نہیں قائل
ہمیشہ کے لیے ہو جاؤ میری زیست میں شامل
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






