ہمیں خود کو ڈھونڈتے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadاس گلشن کو تو اجڑے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
یہاں حالات کو بدلے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
کبھی ہوتے تھے قدموں میں کلیوں کے ڈھیر لیکن
اب خشک پتوں کو اٹھائے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
بڑی تیز آندھیاں چلیں سب کچھ اڑا کر لیں گئیں
آنسو بھی اب بہائے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
آئے بھی تو بڑی دیر سے تم مانگنے روشنی
میرے دل کو تو جلے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
ڈرنا کیا لوٹنے سے بربادی کا خوف کیا
ہم کو تو تباہ ہوئے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
آیا خیال کیسے تجھے زخموں کا آج میرے
مجھے تو یوں تڑپتے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
پوچھنے آئے ہو ساجد کس سے زمانے کی خبر
ہمیں خود کو ڈھونڈتے ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






