ہمیں دریافت کرنے سے
Poet: Razab tabraiz By: M Shoaib, multanہمیں دریافت کرنے سے
ہمیں تسخیر کرنے تک
بہت ہیں مرحلے باقی
ہمیں زنجیر کرنے تک
ہمارے ہجر کے قصے
سمیٹو گے تو لکهو گے
ہزاروں بار سوچو گے
ہمیں تحریر کرنے تک
ہمارا دل ہے پیمانہ
سو پیمانہ تو چهلکے گا
چلو دو گهونٹ تم بهر لو
ہمیں تاثیر کرنے تک
پرانے رنگ چهوڑو آنکھ کے
اک رنگ ہی کافی ہے
محبت سے چشم بهر لو
ہمیں تصویر کرنے تک
ہنر تکمیل سے پہلے
مصور بهی چهپاتا ہے
ذرا تم بهی چهپا رکهو
ہمیں تعمیر کرنے تک
وہ ہم کو روز لوٹے ہے
اداؤ ں سے بہانوں سے
خدا رکهے لٹیرے کو
ہمیں فقیر کرنے تک
رزب اندر جو شاعر ہے
وصف میں یار جیسا ہے
یہ آنسو چهوڑتا جاتا
ہمیں دل گیر کرنے تک
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






