ہمیں دل کا پتا دے دو
Poet: Professor Riffat Mazhar By: Professor Riffat Mazhar,مجھے تم نے کہا تھا
”زندگی بس تم سے قائم ہے“
تمہارا عکس ہے دِل میں
تمہارا روپ نظروں میں
تمہارے بِن
ہمارے دِل کا آنگن
دشتِ ویراں ہے
جو تُم آؤ نکھار آئے
تمہارا ساتھ ہو تو
اپنی ہستی میں بہار آئے
ہماری بیقراری کو
قرار آئے
یقیں جانو
تمہاری بات ہی اب تک
دھیان میں ہے
کہ میرے چار سو رنگوں کا میلہ ہے
بہت سے دوست ہیں
ساتھی ہیں اور ان کی دعائیں ہیں
خوشی ہے ، قہقہے ہیں اور اُن کی خوش صدائیں ہیں
مگر یہ سب نوائیں ، سب ادائیں
ایک دھوکا ہیں
دلِ خوش فہم ، تو ہے منتظر
اب تک اسی پَل کا
جو شاید کھو گیا ہے وقت کے گہرے سمندر میں
وہ جب تم نے کہا تھا
”زندگی بس تم سے قائم ہے“
چلو چھوڑو ! یہ ماضی تھا
مگر اتنا تو سمجھا دو
تمہیں کس نے کہا تھا؟
ہم کو یہ راہیں کھانے کو
ہمیں ناحق ستانے کو
کہاں ہو تم صدا دے دو
ہمیں دل کا پتا دے دو
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






