ہمیں دل کا پتا دے دو
Poet: Professor Riffat Mazhar By: Professor Riffat Mazhar,مجھے تم نے کہا تھا
”زندگی بس تم سے قائم ہے“
تمہارا عکس ہے دِل میں
تمہارا روپ نظروں میں
تمہارے بِن
ہمارے دِل کا آنگن
دشتِ ویراں ہے
جو تُم آؤ نکھار آئے
تمہارا ساتھ ہو تو
اپنی ہستی میں بہار آئے
ہماری بیقراری کو
قرار آئے
یقیں جانو
تمہاری بات ہی اب تک
دھیان میں ہے
کہ میرے چار سو رنگوں کا میلہ ہے
بہت سے دوست ہیں
ساتھی ہیں اور ان کی دعائیں ہیں
خوشی ہے ، قہقہے ہیں اور اُن کی خوش صدائیں ہیں
مگر یہ سب نوائیں ، سب ادائیں
ایک دھوکا ہیں
دلِ خوش فہم ، تو ہے منتظر
اب تک اسی پَل کا
جو شاید کھو گیا ہے وقت کے گہرے سمندر میں
وہ جب تم نے کہا تھا
”زندگی بس تم سے قائم ہے“
چلو چھوڑو ! یہ ماضی تھا
مگر اتنا تو سمجھا دو
تمہیں کس نے کہا تھا؟
ہم کو یہ راہیں کھانے کو
ہمیں ناحق ستانے کو
کہاں ہو تم صدا دے دو
ہمیں دل کا پتا دے دو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






