ہم اجنبی سے لگتے ہیں
Poet: ayesh By: ayesh, Peshawarذندگی کی اک ڈگرپر
میں اور تم
ملےتھےجب
اک دوسرےکیلئے
اجنبی ہوتےہوئےبھی
جانےپہچانےسےلگتےتھے
کوئی کشش تھی جو
ایک دوسرےکی جانب
کھینچتی تھی ہمیں
اور ہم(میں اورتم)
گزرتےوقت کیساتھ ساتھ
ایک دوسرےکےمتعلق
بہت کچھ جانتےگئے!
(اجنبیت اگرتھی بھی تورہی نہیں)
تھےخواب ہمارےایک ہی جیسے
باتیں بھی ایک جیسی
عادتیں بھی ایک جیسی
طبعتیں بھی ایک جیسی
تھی منزلیں بھی ایک جیسی
پروقت کی رومیں بہتےبھٹکتے
راہ حیات پرساتھ چلتےچلتے
نجانےکیوں ؟؟
اکتا سے گئے
ایک دوسرےسےہم
یونہی ٹوٹ گیاتعلق وہ
جوہماری ذات سے تھا،
اور اب
ایک دوسرےکوجانتےپہچانتےہوئے بھی
لاتعلق سے رہتےہیں
ہم اجنبی سےلگتےہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






