ہم اس فضا میں اپنی صدا چھوڑ دیتے ہیں
Poet: اسلم صابر By: Aslam sabir, Mianwaliہم اس فضا میں اپنی صدا چھوڑ دیتے ہیں
اور کون ہے مرا تو بتا چھوڑ دیتے ہیں
تم لوٹنے کا وعدہ کرو تو سہی ذرا
ہم تیرے راستے میں دیا چھوڑ دیتے ہیں
مٹی میں پاتا ہے نمو جب عشق اور وفا
پتھر کے جیسے لوگ وفا چھوڑ دیتے ہیں
تم دیکھتے نہیں ہو دھواں اٹھتا ہے جو بھی
یہ زہر سے بھری ہے ہوا چھوڑ دیتے ہیں
مطلب تلک ہے بغض کی یاری زمانے میں
سوکھے شجر کو گرتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






