ہم تو جی رہے ہیں کسی کی خوشی کےلیے
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamہم تو جی رہے ہیں کسی کی خوشی کےلیے
وگرنہ دنیا میں کون جیتا ہے کسی کے لیے
غموں کو مناؤں تو خوشیاں روٹھ جاتی ہیں
میرےلیے دونوں ضروری ہیں زندگی کےلیے
جب ایک ایک کر کے سبھی سہارےچھوٹے
تو جانا کوئی ضروری نہیں ہے کسی کےلیے
آج وہی انسان انسان کا خدا بن بیٹھا ہے
مولا نے جسے پیدا کیا تھا بندگی کےلیے
مکروفریب کی یہاں کوئی گنجائش نہیں
نیت میں اخلاص ضروری ہےدوستی کےلیے
اصغر کہ دامن میں دردو غم کہ سواکچھ نہیں
مجھے بھول جانا ہی اچھا ہےاس پگلی کےلیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








