ہم تُم بن ادھورے ہیں
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Attockتمھیں اک بات کہنی ہے
مگر ناراض مت ہونا
کہ
تم تو ہر گھڑی مجھ کو
اتنا یاد آتے ہو
ہمیں اتنا ستاتے ہو
کہ ہم تُم دور ہیں دونوں
بہت مجبور ہیں دونوں
نہ اتنا یاد آؤ تُم
نہ یوں اتنا ستاؤ تُم
کہ اتنا یاد آکر یوں
ہمیں پاگل بنا کے تُم
فقط اتنا بتا دو کہ
ہماری جان لو گے کیا؟
مگریہ بھی حقیقت ہے
تمھاری یاد ہی تو ہے
جو ہر پل ساتھ رہتی ہے
خوشی میں بھی، غموں میں بھی
اُداسی کے پلوں میں بھی
تمھاری یاد ہی تو ہے
جو ہر پل یہ بتاتی ہے
مجھے احساس دلاتی ہے
کہ
ہم تُم بن ادھورے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






