ہم دل والے
Poet: نوشین فاطمہ عبدالحق By: nosheen fatima abdulhaqq, Multanپلکوں سے موتی چنتے ہیں
ہم یوں خواب اکثر بنتے ہیں
غم ہوں تو ہم خوش رہتے ہیں
خوشیاں مشکل سے سہتے ہیں
ہم قطرے میں دریا ڈھونڈیں
اور ساگر سے ناراضی ہے
محرم کو مجرم ٹھہرائیں
نامحرم اپنا قاضی ہے
حیراں کن اپنی منطق ہے
کوا رنگوں کا عاشق ہے
بلبل جب گانا گاتی ہے
عاشق ہی کو بہلاتی ہے
جاناں کے چہرے پر خوشیاں
جب رقاصائیں بنتی ہیں
تب خوشبوئیں اس منظر کو
رنگوں کی صورت جنتی ہیں
تب جا کر پیدا ہوتی ہیں
کلیاں ، جو عمدہ ہوتی ہیں
بادل کچھ کھویا کرتے ہیں
ورنہ کیوں رویا کرتے ہیں ؟
اک دن اک عاشق نے گل کو
کچھ یوں نرمی سے چوما تھا
بےخود ہو کر پھر گھنٹوں وہ
مستی میں آ کر جھوما تھا
تب سے ہم سنتے رہتے ہیں
پھولوں کو نازک کہتے ہیں
ہم بس جھونکے سے ڈرتے ہیں
طوفاں سے کھیلا کرتے ہیں
ہم عشق لاحاصل والے
ہم ساگر بن ساحل والے
نوشی ! گمشدہ منزل والے
کنتے پاگل ہیں دل والے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






