ہم زندہ ھیں مگر مُردوں کی طرح
Poet: purki By: M.Hassan, karachiہم زندہ ھیں مُردوں کی طرح
ہم مردہ ہیں زندوں کی طرح
قوم کی بیٹیاں لکھ پڑھ گئیں سب
بیٹے رہ گئے جاہلوں کی طرح
کب ان کو غیرت آئے گی
فریاد کرو موسیٰ کی طرح
دنیا ہے چند دنوں کا مسکن
ہم ریتے ہیں مہمانوں کی طرح
لاکھوں سے پھر بھی ہم بہتر ہے
ہم ناخواندہ ہے خوندوں کی طرح
قرض لے کر ہم قرض چکاتے ہیں
جان لو قرض ہے اک مرض کی طرح
قرض عوام کے کھاتے میں ڈال کر
سیر سپاٹے کرتے ہیں راجوں کی طرح
ڈالر خود آپس میں بانٹ کر
ہمیں لڑاتے ہیں مُ غوں کی طرح
نفسا نفسی کا یہ عالم ہے
ملتے ہیں سب غیروں کی طرح
الیکشن سے پہلے بھائیوں کی طرح
بعد میں ملتے ہیں ظالموں کی طرح
وہ وعدے وہ جلسوں میں وفا کی قسمیں
عجب رنگ بدلتے ہیں یہ گلہری کی طرح
لگتا ہےہمیں آپ اور زرداری بھائی بھائی
باری باری لوٹو بھائی ہمیں ڈاکوؤں کی طرح
مانا کہ آپ نواز ہے ہمیشہ اپنوں کو نوازتے ہیں
ہمیں بھی کچھ نواز دو غریب نوازوں کی طرح
اپنا مال متاع سب فارن میں لگا رکھا ہے
غیروں سے یہ اُمید محض سرابوں کی طرح
چوروں کا بل بھی شریفوں سے وصول کرتا ہے
کوئی تو سچ کو سامنے لائے چیف جسٹس کی طرح
جو ملک و قوم کو لوٹے وہ ہیرو کہلائے
جو دُکھ جھیلے ملک و قوم کے لئے وہ عوام کی طرح
سُولی پر چڑھ جائے ہر قاتل یہ ارمان ہے ہمارا
ہر کوئی سُکھ کا سانس لے یہاں انسانوں کی طرح
ہر سُو امن ہی امن ہوں پر کون ہے سننے والا
سُننے والے ان سُنی کر رہے ہیں بہروں کی طرح
ملک اور عوام کو بیدردی سے لوٹ کر
موج اُڑاتے ہیں یہ ہمدردوں کی طرح
خودکَش اور خود کُشی کو ذرا غور سے سمجھو
ہم خود ہی یہ صفت رکھتے ہیں طالبان کی طرح
عقل و دانش کو ڈھونڈو محنت اور لگن سے
مگر جو اپنی ذات کا دشمن ہو وہ سُدھرے گا کس طرح
کچھ تو کر ملک میں جلد مہنگائی کا علاچ
ورنہ عوام ٹوٹ پڑیں گے دیوانوں کی طرح
ہماری عافیت اسی میں ہے کہ ہم سامنے آئے
کب تک ہم خود کو چھپاؤگے شتر مُرغ کی طرح
ایسا کونسا مسئلہ ہے جسکا کوئی حل ہی نہ ہو
مخلص ہونا شرط ہے پیارے مخلص حکمرانوں کی طرح
لفظ شہادت کو لے کر لڑنا جھگڑنا صرف وقت کا ہے ضیاع
کون ہے شہید اور کون نہیں اللہ پر چھوڑو اسی طرح
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






