ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح
Poet: جاں نثاراختر By: راحیل, Karachiہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح
ہم نے چاہا ہے تمہیں چاہنے والوں کی طرح
خودبخود نیند سی آنکھوں میں گھلی جاتی ہے
مہکی مہکی ہے شب غم ترے بالوں کی طرح
تیرے بن رات کے ہاتھوں پہ یہ تاروں کے ایاغ
خوبصورت ہیں مگر زہر کے پیالوں کی طرح
اور کیا اس سے زیادہ کوئی نرمی برتوں
دل کے زخموں کو چھوا ہے ترے گالوں کی طرح
گنگناتے ہوئے اور آ کبھی ان سینوں میں
تیری خاطر جو مہکتے ہیں شوالوں کی طرح
تیری زلفیں تری آنکھیں ترے ابرو ترے لب
اب بھی مشہور ہیں دنیا میں مثالوں کی طرح
ہم سے مایوس نہ ہو اے شب دوراں کہ ابھی
دل میں کچھ درد چمکتے ہیں اجالوں کی طرح
مجھ سے نظریں تو ملاؤ کہ ہزاروں چہرے
میری آنکھوں میں سلگتے ہیں سوالوں کی طرح
اور تو مجھ کو ملا کیا مری محنت کا صلہ
چند سکے ہیں مرے ہاتھ میں چھالوں کی طرح
جستجو نے کسی منزل پہ ٹھہرنے نہ دیا
ہم بھٹکتے رہے آوارہ خیالوں کی طرح
زندگی جس کو ترا پیار ملا وہ جانے
ہم تو ناکام رہے چاہنے والوں کی طرح
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






