ہم سے ملنا ہی نہیں اس کو گوارا کاشی
Poet: Syed Waqas Kashi By: Syed Waqas Kashi, ISLAMABADہم سے ملنا ہی نہیں اس کو گوارا کاشی
توڑ لاؤں پھر کیسے کوئی ستارہ کاشی
خدا نے پہلے ہی اسے پریوں سا روپ دیا
خوب پھر اس نے خود کو نکھارا کاشی
وہ نہیں ملتا تو پورا جہاں ہے خفا
ورنہ ہر کوئی کہتا تھا ہمارا ہمارا کاشی
دل ہم تو بچھائے بیٹھے تھے اس کی راہوں میں
اس نے اک بار بھی نہ مڑ کے پکارا کاشی
فقط اس کے لیے ہم محفل میں تماشہ بنے
وہ بولا کہہ دوبارہ پھر دوبارہ کاشی
اس سے بھی کوئی پوچھے کے تجھے مرض ہے کیا
پھرتا رہتا ہے جو گلیوں میں آوارہ کاشی
اس کا ساتھ نبھانے کو تو جگ تھا سارا
اس طرف فقط بچا تنہا و بیچارا کاشی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






