ہواوں پر تمہارا انگلیوں سے نام لکھتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Moscowہواوں پر تمہارا انگلیوں سے نام لکھتے ہیں
کبھی اڑتے ہوئے پتوں پہ کچھ پیغام لکھتے ہیں
تمہاری چاہتوں کے نام سے صبحیں بلاتے ہیں
قصیدے بھی تمہارے حسن کے ہر شام لکھتے ہیں
ادائے بے نیازی سے تمہارا پوچھنا ہم سے
خطوط اتنے جنابِ من یہ کس کے نام لکھتے ہیں
کبھی فرہاد کہتے ہیں تمہاری جراتوں پر ہم
کبھی خط میں تمہیں رانجھا، کبھی گلفام لکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






