ہوا سے خوشبو چرا رہی ہوں
Poet: عائشہ بیگ عاشی By: aisha baig aashi, Karachiہوا سے خوشبو چرا رہی ہوں
دریچے دل کے سجا رہی ہوں
جو میری سوچوں کو روشنی دیں
نظر میں سورج اُگا رہی ہوں
سخن کی شاخِ خیالِ نو پر
میں رنگ و خوشبو کِھلا رہی ہوں
سجا کے حرفوں میں چاند تارے
رُخِ غزل جگمگا رہی ہوں
کشید کر کے گُلوں سے رنگت
دھنک زمیں پر سجا رہی ہُوں
حصار کر کے محبتوں کا
دِیے ہوا میں جلا رہی ہوں
ازل سے آبِ حیات عاشی
امیدِ جاں کو پلا رہی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






