ہوا سے چپکے ہی چپکے ترا پیغام ملا
Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistanہوا سے چپکے ہی چپکے ترا پیغام ملا
وفا کا درس فضاؤں سے صبح و شام ملا
جو زندگی میں نہیں پیار زندگی کیا ہے
محبتوں ہی سے تو زیست کو دوام ملا
خوشی سے جھوم رہی ہوں میں پاگلوں کی طرح
تمہاری آنکھوں سے الفت بھرا پیغام ملا
کسی کے زیست میں آ نے سے مل گیا سب کچھ
سکون قلب ملا جسم کو آرام ملا
ہے خوش نصیبی مری مل گیا ٹھکانہ مجھے
تمہارے دل میں سدا کے لئے قیام ملا
اسی کے نام کی مالا جپوں میں ہر لمحہ
یہ کیسا کرنے کو سارہ حسین کام ملا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






