ہوا سے
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaiem, karachiمجھ کو چُھوکر جاتی ہوا تو
اس کو چھونا، اور یہ کہنا
”مت گھبراؤ
سارے دُکھ اندیشے بھلاؤ
تم نہیں تنہا
دیکھو کوئی ہے ساتھ تمھارے
تھامے ہے جو ہاتھ تمھارے
نظمیں اپنی سُنا رہا ہے
نیند آنکھوں میں جگا رہا ہے
کرکے اُلٹی سیدھی باتیں
دیکھو تم کو ہنسا رہا ہے
وہ بیٹھا ہے پاس تمھارے
سوجاؤ تم، بیٹھا رہے گا
تمھاری یہ من موہنی صورت
صبح تک وہ تکتا رہے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






