ہونٹوں سے تر ہونے دو
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreہو جاو میرے اور خود کو مجھے سونپ دو
بس جاو میری دھڑکنوں میں
اور میرے احساس کو پڑھ لو
سمجھو میرے جذبات کو
اور ان میں بہہ جانے دو
بنا لو اپنی ضرورت مجھے
میری عادت خود کو بننے دو
آنکھوں سے چڑھنے دو
نشہ اپنے پیار کا
ہونٹوں سے تر ہونے دو
دھوپ ہے تنہائی کی مجھ پر
کرو محبت کا سایہ
اب اس دھوپ کو مدھم ہونے دو
ہو گئی تھی شام طویل تیرے انتظار کی
بکھرو اب چاندنی اپنی چاہت کی
اور مجھے اپنی گود میں سونے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






