ہونٹ ہیں ان کے گلاب سے بڑھ کر
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAہونٹ ہیں ان کے گلاب سے بڑھ کر
حسن ہے ان کا ماہتاب سے بڑھ کر
معصوم سے بن کے بیٹھے ہیں جو
شوخیاں ہیں ان کی عذاب سے بڑھ کر
ادا سے ماورا جو لگ رہے ہیں آج
ادائیں ہیں ان کی، شباب سے بڑھ کر
گزری ہے زندگی جو ان کے بغیر
لگتی ہے اب تو عذاب سے بڑھ کر
میرے سامنے میرے ہی گھر میں
لگ رہے ہیں وُہ نواب سے بڑھ کر
جاوید آج بتا دو اُن کو راز کی یہ بات
دل میں نہیں کوئی جناب سے بڑھ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






