ہٹا دو تم ان آنکھوں سے یہ جو کاجل کا پہرا ہے
Poet: Tanzeem Akhtar By: Tanzeem Akhtar, dohaہٹا دو تم ان آنکھوں سے یہ جو کاجل کا پہرا ہے
نہ جانے کب سے اک قطرہ اسی سرحد پہ ٹھہرا ہے
تصور میں اسے جب دیکھتا ہوں، ڈوب جاتا ہوں
سمندر تیری آنکھوں کا حقیقت میں جو گہرا ہے
میں تیری یاد کو کیسے بھلا خود سے الگ کردوں
ہمیشہ سامنے میرے حسیں تیرا ہی چہرا ہے
کسی سے عدل کی امید، کوئی کس طرح رکھے
سنے گا کون اب فریاد جب منصف ہی بہرا ہے
اتر جائے گا تیرے ہاتھ سے رنگِ حنا لیکن
مٹے گا نہ کبھی دل سے وفا کا نقش گہرا ہے
تمہارے بعد اے جاناں کہوں کیا حال ہے میرا
ہر اک منظر تھما سا اور لگے یہ وقت ٹھہرا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






