ہچکیاں لوں آہیں بھروں تجھ کو کیا
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK ہچکیاں لوں آہیں بھروں تجھ کو کیا
پیار کا ماتم میں کروں تجھ کو کیا
یوں بھی زندہ ہوں برائے نام کا۔
آ ج نہین کل کو مروں تجھکو کیا؟
کوں سا تم ہو اپنے کام آئے؟؟
تکیہ کسی اور پر کروں تجھکو کیا؟
حیف ! تیرا یہ پیار ھے! ھے !۔
شرم سے ڈوب مروں تجھ کو کیا؟
خوب نبھائی یار ! یاری تو نے۔
وفا پر رشک کروں تجھ کو کیا؟
میرے غم سے تجھ کو کیا تعلق؟
میں جیون یا پھر مروں تجھ کو کیا؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






