ہیں ضبط کیے چاہتِ ناکام کے ساغر
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaہیں ضبط کیے چاہتِ ناکام کے ساغر
ہیں تلخی و غم گردش ایام کے ساغر
دیکھا جو ترے ہونٹوں پہ آیا ہے تبسم
اس دم سے کہاں ملتے ہیں آرام کے ساغر
چھپتی ہے کہاں لاکھ چھپانے سے حقیقت
پیتے ہیں شب و روز ترے نام کے ساغر
تقدیر اسی موڑ پہ لے آئی ہے پھر سے
پینا ہی پڑا زہر مجھے تھام کے ساغر
ضیغم ہے کہاں ثانی ترا اہلِ سخن میں
تنقید سے بے داغ ہیں الہام کے ساغر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






