ہیں نقش پا کندہ جسپر وہ رہگزر میں ہوں
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Houstonہیں نقش پا کندہ جس پر تیرے وہ رہگزر میں ہوں
یوں اس اعتبار سے تجھ سے قریب تر میں ہوں
بہت خجل ہوے یہ جانکر میرے ہم نو ا
کہ اب بھی تیری نگاہوں میں معتبر میں ہوں
گو چھین لی ہے خزاں نے شادابیِ تن میری
آگ لگی رقیبوں کو کہ پھر جلوہ حسن میں ہوں
ہے تیرے ہی دم سے وابستہ میرا ماضی
اس گزرے ہوے کل کی حسین یاد میں ہوں
گھڑی دو گھڑی جسکے ساۓ تلےتم بیٹھے تھے کبھی
وہ شجِر تنہا میں ہوں وفا کی ادھوری داستاں میں ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






