ہے تمہاری آزمائش
Poet: Amber Shahid By: Amber Shahid, lahoreہے تمہاری آزمائش لا سکو گے تاب میں
ہے عیاں ہونے کی خواہش جلوہ نایاب میں
ہے اسے سب کچھ میسر پھر ہے کیسی جستجو
کس لیے بے چین ماہی پھر رہی ہے آب میں
اس کتاب زیست کا ہر ایک پہلو ہے نیا
آرزو لیکن وہی ہے اس کے ہر اک باب میں
کر دیا ہے میں نے خود کو اس طرح تیرے سپرد
جیسے خوشبو قید ہو جائے گل شاداب میں
اس نے زیر لب کیے تھے مجھ سے کچھ ایسے سوال
لاجواب آخر ہوئی میں محفل زرتاب میں
میں نے تو پردہ ہٹایا تھا رخ روشن سے بس
مچ گئی یہ کھلبلی پھر کیوں بھلا مہتاب ہیں
مانگے اس نے عاجزی سے زیست کے کچھ پل میرے
میں مگر انکار کر پائی نہیں آداب میں
داستان عشق گر کرنی پڑی مجھ کو رقم
زندگی کا میں تمہیں حاصل لکھوں القاب میں
سوچ تھی اس کی محافظ اور پہرے دار ضبط
دیکھ لی ہے وہ حقیقت میں نے عنبر خواب میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






