ہے جنوں میں مجھ کو ہر دم یہی ایک کام کرنا
Poet: Khalid ROOMI By: Khalid Roomi, Rawalpindi ہے جنوں میں مجھ کو ہر دم یہی ایک کام کرنا
ترے سنگ آستاں پہ یہ جبین شوق دھرنا
جو نہیں وفا پرستی تو اسے وہ کیا کہیں گے
ہے متاع شوق میری، سر راہ ان پہ مرنا
رخ عاشقی کی زینت ہے تری گلی کی مٹی
ہے طریق اہل الفت اسی طرح سے سنورنا
مرا حال غم جہاں میں نہ کسی سے چھپ سکے گا
مرا کام ہجر میں ہے شب و روز آہ بھرنا
کوئی غم گسار پایا نہ کسی نے دی تسلی
تری راہ تکتے تکتے پڑا جان سے گزرنا
ترے غم زدوں کی کیسی ہے عجیب تر یہ عادت
رتے ذکر پر مچلنا، ترے نام پر نکھرنا
یہی رمز عاشقی ہے، یہی عین بندگی ہے
جو خلش ہے بےخودی کی، ہے اسی میں جینا مرنا
مجھے اہل زر نے دی ہیں یہاں دھمکیاں بھی لیکن
میں تری گلی کا سائل، مجھے کیا کسی سے ڈرنا
یہ جو سر بکف ہیں پھرتے، انھیں تم نہ سہل جانو
یہی لوگ جانتے ہیں ، یہاں ڈوب کر ابھرنا
یہی آرزو ہے دل کی، ہو نصیب مجھ کو ساقی !
کسی دن غبار بن کے ترے شہر میں بکھرنا
عجب آدمی ہے رومی بھی بقاع آب و گل میں
ہے جہاں میں جس کا شیوہ سر عام بات کرنا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






