ہے نام میرا عشق
Poet: Syed Nazeer Kazmi By: Syed Nazeer Kazmi, Al Ainتھاما ھے مرا ہاتھ تو یہ یاد بھی رکھنا
مڑ کر کبھی نہ دیکھنا دنیا سے نہ ڈرنا
کھاؤ گے کئ زخم ۔ کئ بار گرو گے
منزل سے مقدم کبھی رکنا نہ ٹھرنا
اس شہرءخموشاں میں ذرا ٹھہر کے دیکھو
وہ آہ ء فغاں ہے کہ دل جاءے دہلنا
ہاں ایسا بھی ہوگا کہ کبھی اس ر ہ گزار میں
بے رت برس پڑے گا یونہی برسات کا جھرنا
ماہر ہوں اس بساط کا ۔ ہے نام میرا عشق
کم سن بڑے کمال سے ہر چال کو چلنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







