ہے چمن کو ابھی امید بہار
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistanہے چمن کو ابھی امید بہار
بے قراری میں بھی ہے دل کو قرار
رات جی بھر کے رو لیا میں نے
کچھ تو کم ہو گیا یوں دل کا غبار
تجھ کو دیکھا تھا مدتوں پہلے
میری آنکھوں میں آج تک ہے خمار
تیری آواز سن رہا ہوں میں
دور کوئی بجا رپا ہے ستار
اس کڑی دھوپ میں سفر میرا
تیری راہوں میں سیکڑوں اشجار
اک وضاحت ہے سو وہ مشکل ہے
تو جو ملنے کو ہی نہیں تیار
وہ پشیمان ہو کے آ جائے
اس کے تو دور تک نہیں آثار
دل کے بدلے میں دل ہی دیتے ہیں
بس وفا میں یہی ہے کاروبار
ہیں یہ دونوں عزیز تر مجھ کو
اپنی تنہائی اور ترا انتظار
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







