ہے کون بے وفا ذرا دل سے ہی پوچھ لیے
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaہے کون بے وفا ذرا دل سے ہی پوچھ لیے
بولتا ہے ہر پل یہ بے زباں نہیں
میرے جذبات کی حقیت میرے آنسوں سے پوچھ
میرا ان سے بڑھ کے کوئی ترجماں نہیں
بادلوں کو بلاو زرا زلفوں کو پھیلاو
کڑی دھوپ کی تپش ہے کو سائباں نہیں
اٹھی چیس پھوٹے آنسوں کے چشمے
گئی آہ میری شکر ہے اب رائگاں نہیں
کریں کس سے شکوے اور کس سے شکایتیں
کوئی ہم زباں نہیں کوئی مہرباں نہیں
کبھی کہتا ہے بے وفا کبھی باوفا مجھے
قسم خدا کی ارشد اس کی اک زباں نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







