یادوں کے عذاب
Poet: عادل شاہ By: عادل شاہ, Bagalkotیادوں کی دھوپ میں بکھر جاؤں گا
تیری اسی بےرخی سے مرجاؤں گا
چاہت کے سمندر میں طغیانی ہے
ڈوبا تو ساحل سے اُتر جاؤں گا
ٹوٹا ہوا سپنا ہوں تعبیر سے دور
آئینے سے بھی میں مکر جاؤں گا
قلبِ ویران کی صدا کہتی ہے
اک دن تیری راہ میں مر جاؤں گا
احساس کی راکھ بھی اڑی جاتی ہے
میں شعلۂ غم بن کے نکھر جاؤں گا
جب نیند مری ہجر میں چھن سی گئی ہے
تب جاگتی آنکھ سے گزر جاؤں گا
عادلؔ اس کی یاد کا یہ عالم ہے
میں اس کے خیال سے سنور جاؤں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






